کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 76
اور یہی ان اعمال کی جزاء ہے،اب حصولِ ثواب اور دخولِ جنت کیلئے کوئی عظیم عمل چاہئے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وہ عمل روزہ ہے جو میرے لئے ہے اور میں نے اس کی یہ جزاء ضرور دینی ہے۔ روزے کاثواب ہرحال میں دوسرامعنی یہ ہے کہ قیامت کے دن حقوق العباد کے سلسلہ میں بندے کی نیکیاں اصحابِ حقوق میں ایک ایک کرکے تقسیم ہونگی، جب روزہ باقی رہ جائیگا جو اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور جس کی جزاء اللہ تعالیٰ نے ضرور دینی ہے،تو اللہ تعالیٰ روزہ کو تقسیم ہونے سے بچالے گا اور بندہ کے بقیہ حقوق اپنے ذمہ لے لیگا اور اسے روزہ کی برکت سے جزاء عطا فرماکے جنت میں داخل کردے گا۔ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ اسی نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ھذا من أجود الأحادیث وأحکمھا ،اذا کان یوم القیامۃ یحاسب ﷲ عبدہ،ویؤدی ماعلیہ من المظالم من سائر عملہ ،حتی لایبقی إلا الصوم، فیتحمل ﷲ عزوجل مابقی علیہ من المظالم ، ویدخلہ بالصوم الجنۃ. یعنی: روزہ کے فضائل میں یہ حدیث سب سے عمدہ اورٹھوس ہے، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے کا حساب لے گا اور اس کے مظالم کے سلسلہ میں حقداروں میں اسکی تمام نیکیاں تقسیم فرمادے گا، آخر میں روزہ باقی رہ جائیگا ،تو اللہ تعالیٰ اسکے بقیہ مظالم اپنے ذمہ لے لیگا اور روزہ کی برکت سے اس شخص کو جنت میں داخل کردے گا ۔ حافظ ابن رجب الحنبلی البغدادی رحمہ اللہ اس پر یوں تعلیق قائم کرتے ہیں: (ترجمہ ) روزہ چونکہ اللہ تعالیٰ کیلئے ہے ،اور اللہ تعالیٰ نے لازماً اسکی جزاء دینے کا وعدہ فرمایا ہے، لہذا اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک محفوظ ذخیرہ کی شکل میں موجود ہے،بندے کے بقیہ اعمال کفارۂ ذنوب یا قصاصِ حقوق میں خرچ ہوجائیںگے اور اس کے روزے دخولِ جنت کا