کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 77
باعث بن جائیں گے ۔ اسی قسم کا قول مشہور تابعی سعید بن جبیر سے بھی منقول ہے (۲) روزہ کے اللہ تعالیٰ کیلئے خاص ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی عبادت ہے جو بندے اور اسکے پروردگار کے درمیان ایک خفیہ اورسِرّی معاملہ ہے، جس پر دوسرا کوئی شخص مطلع نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ روزہ نیتِ باطنہ کا نام ہے، نیز روزہ دار کے ترکِ طعام وشراب کا معاملہ اللہ تعالیٰ کیلئے ہے، وہ تنہابیٹھا ہونے اور بھوکا وپیاسا ہونے کے باوجود کھانے یاپانی کے قریب تک نہیں پھٹکتا،تیسری بات یہ ہے کہ ہر عبادت مثلاً:نماز، زکوٰۃ،حج،عمرہ،قربانی اور جہاد وغیرہ ظاہری عمل پر مشتمل ہے جو دوسروں کو دکھائی دیتی ہے،لیکن روزہ ایک ایسی خفیہ اورسِرّی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسرا کوئی نہیں دیکھ پاتا، لہذا یہ عبادت ریاء کاری سے بالکل پاک ہے،اسی لئے اللہ تعالیٰ نے روزہ کو اپنی ذات کیلئے خاص فرمالیا۔ سری عبادت جوصرف اللہ تعالیٰ کی رضاء کیلئے کی جاتی ہے، اللہ تعالیٰ کے ہاں کس قدر ومنزلت کی مستحق ہوتی ہے اس کا اندازہ درج ذیل فرمانِ باری تعالیٰ سے بھی بخوبی ہوتاہے: [تَـتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّمِـمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّآ اُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ جَزَاۗءًۢ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ] یعنی:جداہوتے ہیں ان کے پہلوبستروں سے،پکارتے ہیں اپنے رب کو اس کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اور اس کی رحمت کا طمع کرتے ہوئے اور جوہم نے ان کو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں،پس کوئی نفس نہیں جانتا کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے، ان کیلئے کیاکچھ چھپاکر رکھاگیا ہے،یہ جزاء ہے جووہ عمل کیاکرتے تھے۔