کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 78
ان آیاتِ مبارکہ میں بندوں کے ایک مخفی اورسری عمل کا ذکر ہے، اور وہ ہے ان کا رات کی تاریکی اورتنہائی میں اپنے بستروں کو چھوڑدینا اور اپنے پروردگار سے خوف وطمع کے ساتھ راز ونیاز کرتے رہنا۔ چونکہ ان کایہ عمل سوفیصد پوشیدہ ہے،لہذا اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی جزاء بھی پوشیدہ فرمادی، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق کسی نفس کو ان کی جزاء کا علم نہیں، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت کس طرح ان کی آنکھیں ٹھنڈی فرمائے گا، کوئی نہیں جانتا۔ روزے کا پوشیدہ اور مخفی ہونا ایک ایسا تمیز ہے،جو کسی دوسرے عمل کو حاصل نہیں،لہذا ہم روزے کے تعلق سے یہ اہم نصیحت کرناچاہیں گے کہ اس تمیز کو کماحقہ برقراررکھاجائے،اور اللہ تعالیٰ کی رضاء جوئی کی خاطر اسے پوشیدہ رکھنے کی مقدوربھر سعی کی جائے ۔ روزے کی’’سریت‘‘کیسے حاصل کریں یہاں ایک اہم نکتہ کی نشاندہی فائدہ سے خالی نہ ہوگی،وہ نکتہ بھی سریت سے متعلق ہے،جس کی تفصیل یوں ہے کہ رمضان المبارک میں تو سب ہی روزہ رکھتے ہیں،لہذا اس کا سری اورمخفی ہونا ممکن نہیں رہتا، البتہ رمضان کے علاوہ اگر روزے کا اہتمام کیاجائے تو پوری طرح اس عمل کی سریت برقرار رکھی جاسکتی ہے،چنانچہ کچھ نفلی روزے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکھاکرتے تھے کا اہتمام کرلیاجائے،مثلاً:ایامِ بیض کے تین روزے، جنہیں شریعت نے رمضان کے روزوں کے ساتھ زمانہ بھرکے روزے قراردیاہے،اس کے علاوہ ہرپیر اور جمعرات کاروزہ بھی مسنون ہے، جن کی اہمیت یہ ہے کہ ان دودنوں میں بندوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے روبروپیش کئے جاتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا: (ھذان الیومان یرفع فیھما العمل إ لی ﷲ،فأحب ان یرفع عملی وأنا صائم) یعنی: یہ دودن وہ ہیں جن میں بندوں کے اعمال، اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھائے جاتے