کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 79
ہیں،پس میری یہ چاہت ہے کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تومیں روزے سے ہوں۔ اس حدیث سے روزے کی اہمیت مزید آشکارہ ہوتی ہے،نیز نفلی روزے کے اہتمام کی عظمت بھی سامنے آتی ہے ،نیز پیراورجمعرات، دودنوں کو خصوصی اہتمام دینے کی ترغیب بھی ملتی ہے ؛کیونکہ ان دودنوں میں بندوں کے اعمال اللہ رب العزت کے حضورپیش ہوتے ہیں۔ واضح ہوکہ روزے کے تعلق سے کچھ امور مخالفتِ سنت ،بلکہ غلو کے زمرے میں آتے ہیں، جن میں سے دوکی نشاندہی کی جاتی ہے۔ افطار میں جلدی اورسحری میں تاخیر 1افطاری میں تعجیل یعنی جلدی کرنا اور سحری میں تاخیر یعنی دیر کرنا افضل بھی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت بھی ،بلکہ ان دونوں امورکو لوگوں کی بھلائی اوربہتری کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے : (بکروا بالإفطار وأخروا السحور) یعنی:افطارمیں جلدی کرو اورسحری میں تاخیرکرو۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (لایزال الناس بخیر ماعجلوا الفطر(وفی لفظ أخروا السحور) یعنی: لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں اور سحری لیٹ کرتے رہیں۔ لہذا افطار میں تاخیرکرکے روزے کی طوالت بڑھانا نہ تو نیکی ہے نہ موجب ِتقویٰ،بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف بھی ہے،شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس روش کو یہود ونصاری کی مشابہت قرار دیا ہے،اوردین اسلام جومبنی برغیرت دین ہے سے ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے کہ ہم یہود ونصاری کی ڈٹ کر مخالفت کریں۔(خالفوا لیھود والنصری)