کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 80
’’وصال‘‘کاحکم 2دوسرا امر وصال فی الصیام کے تعلق سے ہے ،یعنی سحری سے سحری تک یا افطاری سے افطاری تک روزہ رکھنا،یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے خلاف ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے: (لاوصال فی الصیام )یعنی:روزے میں وصال نہیں۔ نیزفرمایا:(إیاکم والوصال)یعنی:تم وصال سے بچو۔ شیخ الاسلام رحمہ اللہ نے وصال کی ممانعت کی علت بھی نصاری کی مخالفت ذکرکی ہے،ملاحظہ ہو:(اقتضاء الصراط المستقیم بمخالفۃ أصحاب الجحیم) اس سے واضح ہوتا ہے کہ شریعتِ مطہرہ کس قدر یہود ونصاری کے تشبہ سے روکتی اور باز رکھتی ہے،حالانکہ وصال فی الصیام روزے کی طوالت کا سبب بنتا ہے،جوزیادہ باعث ِاجر ہونا چاہئے، مگر یہود ونصاری سے تشبہ کسی صورت جائزنہیں،یہی دین اسلام کی غیرت کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے طلوع وغروبِ آفتاب کے موقع پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے؛ کیونکہ عباد الشمس ،ان دواوقات میں عبادت کرتے ہیں،لہذا شریعت نے اس عبادت ہی کو باطل قرار دے دیا،جو مشرکین سے تشبہ کا سبب بنے۔ بہرحال روزہ،بلکہ ہرعبادت میں اصل نکتہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے ،جبکہ ابتداع کا راستہ سراسرباطل اورگمراہی ہے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:(اتبعوا ولاتبتدعوا فقد کفیتم) یعنی: اتباع کرو،ابتداع نہ کرو،کتاب وسنت میں ہی کفایت ہے۔ روزے کے بارہ میں مزید تفصیل کیلئے ہمارے رسالہ ’’روزہ، احکام اورثمرات‘‘کا مطالعہ کیاجائے۔(و اللہ ولی التوفیق)