کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 81
اسلام کا پانچواں رکن:حج اسلام کا پانچواں رکن حجِ بیت اللہ ہے،حج کی فرضیت 9 ھ؁ میں نازل ہوئی ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی حج فرمایا،جسے حجۃ الوداع کہا جاتاہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہجری میں حج کیا تھا،جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار عمرے کرنا ثابت ہیں۔ حج وعمرہ سے مقصود،ان مقامات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور اس کاذکر بلندکرناہے،جن مقامات میں اللہ تعالیٰ نے عبادت کا حکم ارشاد فرمایا ہے،سنن ابی داؤد اور جامع ترمذی میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (إنما جعل رمی الجماروالسعی بین الصفا والمروۃ لإقامۃ ذکرﷲ) یعنی: شیطانوں کوکنکریاں مارنے اورصفاومروہ کے مابین سعی کرنے کی مشروعیت، اللہ تعالیٰ کاذکر بلند کرنے کیلئے ہے۔ فرضیت حج کے دلائل حدیثِ جبریل سے ثابت ہوگیا کہ حج اسلام کا رکن ہے،جو فرضیتِ حج کی دلیل ہے،حج کی فرضیت قرآن حکیم سے بھی ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَلِلہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْـتَـطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۰ۭ وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ]