کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 83
ادائیگیٔ حج میں جلدی کرنی چاہئے اگر ہرسال حج کرنا فرض ہوجاتاتو کس قدر دشوارہوتا،شریعتِ مطہرہ نے زندگی بھرکیلئے صرف ایک بارحج کا حکم دیکر ہمارے لئے کتنی آسانی پیدافرمادی،چنانچہ اس آسانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجالانا چاہئے، جس کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ادائیگیٔ حج میں تاخیر نہ کی جائے بلکہ ایک انسان کو جونہی استطاعت میسرآجائے فوراً حج کرلے،بلاعذر حج کو مؤخر کرتے رہنے پر وہ یقینا گناہگارہوگا۔ مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان ہے:(تعجلوا إلی الحج فإن أحدکم لایدری مایعرض لہ )یعنی: فریضہ حج کی ادائیگی میں جلدی کرو ؛کیونکہ تمہیں اس بات کا علم ہی نہیں کہ آگے تم پر کیا بیتنے والی ہے۔ ایک بار سے زائد حج،نفلی شمارہوگا،مسند احمد اور کتبِ سنن وغیرہ میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً مروی ہے:(الحج مرۃ فمن زاد فھو تطوع)یعنی:حج ایک بار فرض ہے،جس نے ایک بار سے زائد حج کیے وہ نفل ہونگے۔ میت کی طرف سے حجِ بدل کے متعلق ایک انتہائی اہم مسئلہ واضح ہوکہ ایک شخص طاقت ہونے کے باوجود فریضہ حج کو مؤخر کرتا رہا اور حج کئے بغیر ہی مرگیا تواس کے وارث اس کی طرف سے حج ادا نہیں کریں گے؛کیونکہ وہ اپنی زندگی میں حج کرنا چاہتا ہی نہیں تھا، تو اس کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے کیونکر حج کیاجائے گا ۔ شیخ صالح بن عثیمین رحمہ اللہ ایک سوال کا جواب دیتے ہیں،سوال یہ ہے کہ جس شخص نے حج نہ کیا ہوکیا اس کے ورثاء اس کے ترکہ میں سے حج کی رقم نکال سکتے ہیں ؛تاکہ اس کی طرف سے حج کروالیاجائے ؟