کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 84
جواب:نہیں؛کیونکہ یہ حج اسے کوئی فائدہ نہ دیگا،لہذا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کاخوف اختیار کیا جائے،جوشخص قدرت واستطاعت کے باوجود حج نہ کرسکا حتی کہ مرگیا،اس کی طرف سے اگر ہزاربار بھی حج کرلیاجائے تووہ بری الذمہ نہ ہوسکے گا۔ ابن قیم رحمہ اللہ نے بھی اسی مسئلہ کوپسند کیاہے اور اسے اللہ تعالیٰ کا دین قراردیاہے۔ حج کی استطاعت دوطرح سے ہے ،ایک بدنی دوسری مالی،بدنی استطاعت سے مراد یہ ہے کہ وہ طویل سفر کرنے،سواری پر بیٹھنے اور مناسکِ حج اداکرنے کے قابل ہو،جبکہ مالی استطاعت سے مراد یہ ہے کہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو مصارف حج وسفرکیلئے کفایت کرجائے نیز جن اہل وعیال کو چھوڑکرحج کرنے جارہا ہے ان کے نان ونفقہ کا بھی پورا بندوبست ہو۔ حج بدل کے احکامات میت کی طرف سے حج کیاجاسکتا ہے ،جہاں تک زندہ شخص کا تعلق ہے تو اس کی طرف سے حج کرنا جائز نہیں،البتہ دوحالتوں میں کیا جاسکتا ہے،ایک یہ کہ وہ زندہ شخص انتہائی بوڑھااورکمزورہوکہ وہ سواری اور سفر کے قابل ہی نہ ہو،اور دوسری یہ کہ وہ کسی ایسے شدید مرض میں مبتلاہوچکاہوجس سے شفایابی کی کوئی امید نہ رہی ہو۔ عبد اللہ بن عباسرضی اللہ عنہما روایت فرماتے ہیںکہ بنوخثعم قبیلہ کی ایک عورت ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضرہوکر عرض کرتی ہے: میرے والد مالی طورپر حج کی استطاعت حاصل کرچکے ہیں،مگر وہ اس قدر بوڑھے ہوچکے ہیں کہ سواری پربیٹھنے کے قابل نہیں رہے،کیا میں ان کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (حجی عنہ)تم اپنے والد کی طرف سے حج کرلو۔ البتہ کسی کی طر ف سے حج کرنے والے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنا حج کرچکاہو،چنانچہ سنن ابی داؤد اور ابن ماجہ وغیرہ میں عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو( لبیک عن شبرمۃ )کہتے ہوئے سنا ،(گویا وہ شبرمہ کی طرف سے حج کررہا تھا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:کیا تم اپناحج کرچکے ہو؟اس نے کہا:نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(حج عن نفسک ثم حج عن شبرمۃ)پہلے اپناحج کرلو پھر شبرمہ کی طرف سے کرلینا۔