کتاب: حدیث جبریل - صفحہ 85
آج کل کچھ لوگ دیکھے جاتے ہیں جومحض مال کے حصول کیلئے اپنے آپ کو حج بدل کیلئے پیش کرتے رہتے ہیں ،جس شخص کی یہی نیت کارفرما ہواس کاحج صحیح نہیں،ضروری ہے کہ حج بدل کرنے والے بڑے اخلاص کے ساتھ اور امانت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اپنے اس بھائی کو پوراپورا نفع پہنچانے کی کوشش کریں جس کی طر ف سے حج کررہے ہیں۔و اللہ المستعان عورتوں پر حج کی فرضیت واضح ہو کہ مَردوں کی طرح عورتوں پربھی حج کرنا فرض ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج وعمرہ کو ایک خاتون کا جہاد قراردیاہے،جو اس بات کی دلیل ہے کہ عورت حج یا عمرہ کی ادائیگی پر بہت زیادہ اجروثواب کی مستحق ہے۔البتہ استطاعت کے تعلق سے عورت پر ایک اضافی شرط عائدہوتی ہے اوروہ اس کے محرم کا ہونا ہے۔البتہ مکہ میں مقیم عورت کیلئے محرم کی شرط نہیں ہے۔ ایک شخص نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا:میری بیوی حج کیلئے جارہی ہے،جبکہ میرا نام فلاں غزوہ میں شامل کردیا گیا ہے،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :(انطلق فحج مع إمرأتک )تم غزوہ میں جانے کی بجائے اپنی بیوی کے ساتھ حج کرنے چلے جاؤ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: (لا یحل لإمرأۃ تسافر مسیرۃ یوم ولیلۃ لیس معھا محرم) یعنی:عورت کیلئے ایک دن اوررات کی مسافت کا سفر،محرم کے بغیر جائز نہیں ہے۔