کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 100

ثابت ہے،وہ نہ تو کسی صفت کی کیفیت بیان کرتے ہیں ( اور نہ ہی کسی صفت کو حد میں محدود کرتے ہیں )‘‘ قاضی ابو یعلیٰ اپنی کتاب ’’ابطال التأویل ‘‘میں فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل اخبار کو رد کرنا جائز نہیں، نہ ان صفات کی تأویل روا ہے ،بلکہ ضروری ہے کہ انہیں انکے معنیٔ ظاہر پر محمول کیا جائے اور یہ ایمان رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے کوئی صفت اس کی کسی مخلوق کی صفت سے کوئی مشابہت ومماثلت نہیں رکھتی، تشبیہ کا عقیدہ ہرگز ہرگز اختیار نہ کیاجائے ،امام اہل السنۃ امام احمد بن حنبل اور دیگر ائمہ عظام سے یہی عقیدہ منقول ومروی ہے ۔ ‘‘ حافظ ابن عبد البر اور قاضی ابو یعلیٰ کے یہ اقوال شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے مجموع الفتاویٰ لابن القاسم کے الفتوی الحمویۃ (۵/۸۷،۸۹)میں نقل فرمائے ہیں ۔ صفاتِ باری تعالیٰ کو ان کے معنیٔ ظاہر اور متبادر الی الذہن پر محمول کرنے کے حوالے سے یہ مذہب بالکل حق اور ثواب ہے اور یہی جادئہ مستقیم ہے ، اوراس کی دو وجوہات ہیں : پہلی وجہ یہ ہے کہ کتاب وسنت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات پر ایمان لانے کے جو تمام ضروری تقاضے ہیں مذہب سلفِ صالحین ان سے پوری طرح ہم آہنگ ہے،چنانچہ علم وانصاف سے اس مذہبِ حق کا تتبع کرنے والا اس حقیقت سے بخوبی آگاہ وآشنا ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہاں دو قضیئے ہیں جن میں سے ایک ماننا پڑے گا ،یا تو مذہب سلف صالحین حق ہے،یا دوسروں کا مذہب حق ہے ۔دوسرا قضیہ باطل ہے ،کیونکہ اگر دوسروں کے

  • فونٹ سائز:

    ب ب