کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 101

 مذہب کو حق جان لیا جائے تو اس سے لازم آئے گا کہ صحابہ وتابعین باطل قول پر قائم تھے ،اور انہوں نے ایک بار بھی تصریحاً و ظاہراً اس قولِ حق کی بات نہیں کی جس کا اعتقادواجب تھا۔ اب یہ سب کچھ یا تو اس لیئے ہوگیا کہ وہ حق سے ناآشنا تھے ،یا حق جانتے تو تھے لیکن چھپا گئے ،اور صحابہ وتابعین کے بارہ میں یہ دونوں مفروضے باطل ہیں اور لازم کا باطل ہونا ملزوم کے باطل ہونے پر دال ہوتا ہے، جس سے یہ بات متعین ہوگئی کہ اسماء وصفات کے تعلق سے حق وہی ہے جس پر اس امت کے سلف، صحابہ کرام وتابعین عظام قائم تھے ۔ القسم الثانی:دوسری قسم ان لوگوںکی ہے جنہوں نے نصوصِ صفات کا معنیٔ ظاہر ومتبادر تو لیا لیکن ایک باطل رنگ کے ساتھ اور وہ تشبیہ ہے ،چنانچہ انہوں نے نصوصِ صفات کی دلالت کو تشبیہ کے عقیدہ پر قائم کردیا، یعنی خالق کی صفات مخلوق کی صفات کے مشابہ ہیں ۔یہ فرقہ مشبہ ہے اور ان کا مذہب کئی وجوہ سے باطل ہے: پہلی وجہ یہ ہے کہ تشبیہ کا عقیدہ نصوص پر ظلم اور ان کے معنیٔ مراد کو معطل کرنے کے مترادف ہے، بھلا نصوصِ صفات تشبیہ پرکیسے قائم ہوسکتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ ] یعنی: اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عقلِ سلیم کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ خالق اپنی مخلوق سے ذات وصفات میں ہر لحاظ سے مباین اور جدا ہے تو پھر ان نصوص پر یہ حکم کیونکر لگایا جاسکتا ہے کہ یہ خالق و مخلوق میں مشابہت پر دلالت کرتے ہیں ۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب