کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 102

 تیسری وجہ یہ ہے کہ مشابہت کا جو معنی مشبہ نے سمجھا وہ سلفِ صالحین کے فہم کے خلاف ہے (کیونکہ صحابہ وتابعین میں کوئی تشبیہ کا قائل نہیں تھا) لہذا مشبہ کا مذہب باطل ہوا ۔ اگر قائلینِ تشبیہ یہ سوال کریں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجیدمیں ہماری عقل وفہم کے مطابق مخاطب فرمایا ہے،اور اللہ تعالیٰ کی صفات، مثلاً: نزول (اترنا) یا ید (ہاتھ) کوہم انسانوں کے نزول اور ید کو مثال بنا کر ہی سمجھ سکتے ہے ،لہذا تشبیہ کا عقید ہ ثابت ہوگیا،اس کا جواب تین وجوہ سے ہے : (۱) پہلا جواب یہ ہے کہ جس ذات نے ہمیں ہماری عقل وفہم کے مطابق مخاطب فرمایا ہے اسی کافرمان ہے :[لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ ] یعنی اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسی ذات نے بندوں کو اپنے لیئے مثالیں بیان کرنے سے منع فرمایا : [فَلَا تَضْرِبُوْا لِلہِ الْاَمْثَالَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ يَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۝۷۴ ] ترجمہ:اللہ تعالیٰ کیلئے مثالیں مت بناؤ، اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ اسی ذات نے بندوں کو اس کا ہم مثل بنانے سے منع فرمایا : [فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۝۲۲ ] ترجمہ: خبردار باجود جاننے کے اللہ کے شریک(ہم مثل) مقرر نہ کرو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب