کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 103

 اور اللہ تعالیٰ کا پورا کلام حق ہے ،جس کا بعض،بعض کی تصدیق کرتا ہے اور یہ کلام پاک ہرقسم کے تناقض سے پاک ہے ۔ (۲) دوسرا جواب یہ ہے کہ قائلینِ تشبیہ سے کہا جائے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتے ہو اور تمہاراعقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ،مخلوق کی ذات کے مشابہ نہیں ہے ،وہ یقینا یہ بات قبول کرینگے، تو ان سے کہا جائے کہ اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کی صفات کومان لو کہ اس کی کوئی صفت مخلوق کی صفات سے مشابہت نہیں رکھتی ۔کیونکہ صفاتِ باری تعالیٰ کے بارہ میں وہی بات کی جائے گی جو ذات کے بارہ میں کی جاتی ہے۔ اور جو ذات اور صفات میں فرق کرے گا وہ خود تناقض اور اضطراب کاشکار ہے ۔ (۳) تیسر اجواب یہ ہے کہ قائلینِ تشبیہ سے کہا جائے گا کہ تم اس حقیقت کا مشاہد ہ کرتے رہتے ہو کہ مختلف مخلوقات میں بہت سے لفظ نام کی حد تک متفق ومشترک ہیں ،لیکن اس نام کے حوالے سے ہر مخلوق کی حقیقت دوسری سے مختلف ہوتی ہے۔ وہ کہے گا: کیوں نہیں ،یہ بات درست ہے ۔تو اس سے کہا جائے گا کہ جب تم ان صفات کے تعلق سے مخلوقات کے مابین فرق اور تباین کو سمجھتے اور جانتے ہو تو خالق اور مخلوق کے مابین فرق کو کیوں نہیں سمجھتے ؟ حالانکہ خالق اورمخلوق کے مابین فرق اور تباین زیادہ بڑااور واضح ہے ،بلکہ خالق اور مخلوق کے مابین مشابہت اور مماثلت کا پایا جانا محال ہے ۔جیسا کہ قوا عدِ صفات کے قاعدہ نمبر ۶ میں گزر چکا۔ القسم الثالث: تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جنہوں نے نصوصِ صفات سے ایک باطل معنی مراد لیا ،جو ہر گز اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان نہیں اور وہ معنی’’ تشبیہ ‘‘ہے ،پھر انہوں نے مشبہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب