کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 105

(۳) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو ظاہری معنی سے پھیرتے ہوئے، معنیٔ مخالف کومراد لینا ،اللہ تعالیٰ پر قولِ بلاعلم ہے ،جو کہ حرام ہے ،جس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : [قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ وَالْاِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَاَنْ تُشْرِكُوْا بِاللہِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِہٖ سُلْطٰنًا وَّاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۝۳۳ ] ترجمہ: آپ فرمائیے کہ البتہ میرے رب نے صرف حرام کیا ہے ان تما م فحش باتوں کو جو علانیہ ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اور ہر گناہ کی بات کو اور ناحق کسی پر ظلم کرنے کو اوراس بات کو کہ تم اللہ کے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک ٹھہراؤ جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور اس بات کو کہ تم اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات کہوجس کو تم جانتے نہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: [وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ ] ترجمہ:جس بات کی تجھے خبر ہی نہ ہو اس کے پیچھے مت پڑ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کو اس کے معنیٔ ظاہر وحقیقی سے پھیر کر ،معنیٔ مخالف مراد لینے والا ایسی بات پر قائم ومصر ہے جس کا اسے کوئی علم نہیں ،اور کسی علم کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ پر اپنے قول باندھ رہاہے، اور اس میں دو خرابیاں لازم آرہی ہیں :

  • فونٹ سائز:

    ب ب