کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 107

 ثانیاً:نفی کے بعد جس چیز کو ثابت کررہے ہواس کی دلیل لاؤ؟ ان دونوں چیزوں کی ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ،لہذا وہ نفیاًواثباتاً اللہ تعالیٰ پر قولِ بلاعلم کے انتہائی خطرناک گناہ کے مرتکب بن گئے ۔(والعیاذ باللہ ) (۴) معطلہ کے عقیدے کے ابطال کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ نصوصِ صفات کو ظاہری معنیٰ سے پھیرنا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،صحابہ کرام ،سلفِ صالحین وأئمہ کرام کے عقیدے کے خلاف ہے … اور یہی بات معطلہ کے مذہب کے باطل ہونے کیلئے کافی ہے،کیونکہ حق بلاشبہ وہی ہے جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے صحابہ کرام ، سلفِ صالحین اور أئمہ عظام قائم تھے۔ (۵) پانچویں وجہ یہ ہے کہ گروہِ معطلہ میں سے کسی بھی شخص سے پوچھو : کیا تم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر جانتے ہو؟ کہے گا :نہیں… پھر پوچھو : اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق جو بھی خبر د ے دی کیا اسے حق وصدق مانتے ہو؟کہے گا: ہاں پھر پوچھو: کیا تم اللہ تعالیٰ کے کلام سے زیادہ واضح اور فصیح کسی کا کلام جانتے ہو ؟ کہے گا:نہیں پھر پوچھو:کیا تم یہ سمجھتے ہوکہ نصوصِ صفات کے تعلق سے اللہ تعالیٰ اپنی خلق کو اندھیرے میں رکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی عقلوں سے خودہی حق نکال لیں اور اپنا عقیدہ بنالیں ؟ وہ کہے گا: نہیں۔ کسی بھی معطلی سے یہ گفتگو قرآنی نصوص کے حوالے سے تھی ،اب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات وارد ہیں ان کے حوالے سے کسی بھی اہل تعطیل سے پوچھو: کیا تم اللہ تعالیٰ کی ذات کو اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر جانتے ہو؟ کہے گا:نہیں۔پھر پوچھو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بارہ میں جو خبر دی کیاتم اسے صدق وحق مانتے ہو؟ کہے گا :ہاں۔پھر

  • فونٹ سائز:

    ب ب