کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 108

 پوچھو: کیا کوئی بھی شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ واضح اور فصیح بات کرسکتا ہے؟ کہے گا:نہیں۔ پھر پوچھو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی امت کا خیر خواہ ہوسکتا ہے ؟کہے گا :نہیں۔ تو پھر اسی سے کہو: جب تم یہ سب مانتے ہو تو اپنے اندر اتنی جرأت وشجاعت کیوں نہیں پیدا کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کیلئے ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذاتِ باری تعالیٰ کیلئے جو کچھ ثابت فرمادیا اسے اس کے حقیقی وظاہر ی معنی جو اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان بھی ہے پر محمول کرتے ہوئے تم بھی ثابت کردو اور اس کے مطابق اپنا عقیدہ بنالو، لیکن اس کے برعکس تمہارے اندر یہ جرأت وجسارت کیسے پیدا ہوگئی کہ تم نے اس کے حقیقی معنی کا انکار کرڈالا ،اور معنیٔ مخالف مرادلیکر اللہ تعالیٰ پر قولِ بلاعلم جیسے فعلِ شنیع کے مرتکب بن گئے۔جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب ِمقدس میں اپنی ذات ِ بالا وبرتر کیلئے ثابت فرمادیا ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنتِ مطہرہ میںاس ذاتِ پاک کے لائقِ شان جوکچھ ثابت فرمادیا، اسے نفیاً واثباتاًثابت کرنے اور اسکے مطابق عقیدہ بنالینے میں تمہارا کیا نقصان ہے؟ کیا یہ سلامتی کا راستہ نہیں ہے ؟ اور جب قیامت کے دن تم سے سوال ہوگا : [مَاذَآ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ۝۶۵ ] ترجمہ:تم نے انبیاء ومرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا؟ تواس وقت یہ جواب انتہائی مضبوط اور نجات دہندہ ثابت نہ ہوگا ؟کیا تمہارا نصوصِ صفات کو ظاہری معنی سے پھیر کر معنیٔ مخالف لینا تمہاری ذاتی رائے قرار نہ پائے گا؟ اور اگرحقیقی معنی سے پھیرنا جائز بھی مان لیں تو پھر یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ معنیٔ مخالف وہ نہ ہو جو تم نے مرادلیا ہے ،بلکہ کچھ اور ہو؟

  • فونٹ سائز:

    ب ب