کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 110

 (۲) اہلِ تعطیل کے مذہب کو مان لیں تو یہ بات لازم آتی ہے کہ قرآن پاک جو ہر چیز کا تبیان ہے، لوگوں کیلئے ہدایت اور سینوں کیلئے شفاء ہے ،نورِمبین ہے اورحق و باطل کے مابین فرقان کی حیثیت رکھتا ہے نے اسماء وصفات کے باب میں ضروری عقیدہ بیان نہیں کیا،بلکہ اسے بندوں کی عقلوں پر چھوڑ دیا ہے، جس چیز کو چاہے ثابت کریں اور جس چیز کو نہ چاہتے ہوں تو اس کا انکارکردیں۔اوریہ بات بھی ظاہراً باطل ہے۔ (۳) اہلِ تعطیل کے مذہب کو مان لیں تو یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،خلفائے راشدین، صحابہ کرام اور أئمہ سلف صفاتِ باری تعالیٰ کے بارہ میں جو اعتقاد واجب یاممتنع یا جائز ہے اس کی معرفت اور بیان سے قاصر تھے (نعوذباللہ )کیونکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارہ میں اہلِ تعطیل کا جو عقیدہ ہے (جسے تأویل کا نام دیتے ہیں) اس بارہ میں ان سے ایک حرف بھی وارد یا منقول نہیں ہے۔ اب یہاں دو باتیں لازم آرہی ہیں ،یا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم ،خلفائے راشدین اور أئمہ سلف اس بارہ میں صحیح عقیدہ کے فہم ومعرفت سے قاصر،جاہل اور عاجز تھے ۔یا امت کیلئے ٹھیک طرح بیان نہ کرکے زبردست کوتاہی کے مرتکب تھے …اور یہ دونوں امر باطل ہیں ۔ (۴) معطلہ کے مذہب کو مان لینے سے یہ بات بھی لازم آسکتی ہے کہ اللہ رب العالمین کی معرفت، جو کہ تمام شریعتوںمیں سب سے اہم مسئلہ ،بلکہ تمام انبیاء ومرسلین کی رسالتوں کا زبدۃ ہے کے تعلق سے لوگوں کیلئے مرجع اللہ تعالیٰ اوراسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام نہیں ہے بلکہ اس سلسلہ میں اصل مرجع ان کی مضطرب اور متناقض عقول ہیں ، جو چیز ان کی عقول کے خلاف ہے اسے ہرممکنہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب