کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 111

کوشش سے تکذیب کا نشانہ بنائیں گے اوراگر تکذیب کی راہ دستیاب نہ ہوسکی تو تحریف کے ذریعے اس کی روح مسخ کردینگے، (اور اس تحریف کو تأویل کا نام دیکر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرینگے ۔) (۵) (اہلِ تعطیل جس روش پر چل رہے ہیں اسے مان لینے سے ) اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت کردہ صفات کی نفی کا جواز پیدا ہوسکتا ہے ،مثلاً: اللہ تعالیٰ کے فرمان:[وَّجَاۗءَ رَبُّكَ ]میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ مجیٔ (یعنی روزِ قیامت آنا) مذکور ہے (اب صفتِ مجیٔ اللہ تعالیٰ کے اس بیان سے ثابت ہوگئی) مگراہلِ تعطیل اسکی جو تأویل کرتے ہیں اس کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ مجیٔ کے انکار کا جواز بن سکتا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان:[ ینزل ربنا الی سماء الدنیا] [اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے] میں اللہ تعالیٰ کی صفت نزول ثابت ہورہی ہے،مگر معطلہ جو تأویل کرتے ہیں اس کی روشنی میں صفت نزول کے انکار کا جواز بن سکتا ہے ۔کیونکہ معطلہ اللہ تعالیٰ کی صفت مجیٔ اورنزول کو مانتے توہیں مگر اللہ تعالیٰ کی طرف ان صفات کی مجازی نسبت کے قائل ہیں ،اور قائلینِ مجاز کے نزدیک مجاز کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ (بوقتِ ضرورت) اس کی نفی درست ہو،(جس کا معنی یہ ہواکہ اللہ تعالیٰ کی جن صفات کو یہ مجازی قرار دے رہے ہیں ان کی نفی ممکن ہے )ہم کہتے ہیں کہ جن صفات کو اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادیا ہے ان کی نفی سب سے بڑاباطل ہے … اور ان مقامات پر اس کی ذات کے مجیٔ اور نزول کی جگہ اس کے امر کے مجیٔ اورنزول کی تأویل کرنا قطعی ناممکن ہے، کیونکہ سیاقِ کلام میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب