کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 112

 اس تأویل کی کوئی دلالت یا گنجائش موجود نہیں ہے ۔ پھر معطلہ میں سے کچھ تو وہ ہیں جو مذکورہ قاعدہ تمام صفات پر جاری کرتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کو بھی اسی قاعدہ کی زد میں رکھے ہوئے ہیں ۔ جبکہ کچھ معطلہ تناقض کا شکار ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں ،اس گروہ میں اشعریہ اورماتریدیہ وغیرہ کا نام آتا ہے ۔یہ لوگ اگر کسی صفت کو شامل کرتے ہیں تو محض اس حجت کے ساتھ کہ اس کے صحیح ہونے پر عقل دلالت کررہی ہے ،اور اگر کسی صفت کی نفی کرتے ہیں تو محض اس حجت کے ساتھ کہ اس صفت کی عقل نفی کررہی ہے یا یہ کہ اس کی صحت پر عقل دلالت نہیں کررہی ۔ ہم ان اشاعرہ سے کہتے ہیں کہ تم جن صفات کی بحجتِ عقل نفی کرتے ہو،وہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے تو ثابت ہیں ہی ،مگر ہم انہیں دلیلِ عقل سے بھی ثابت کرسکتے ہیں ،بالکل اسی طرح جس طرح تم ان صفات کو دلیلِ عقل سے ثابت کرتے ہو جنہیں تم مانتے ہو۔مثال کے طورپر: اشاعرہ اللہ تعالیٰ کی صفت ارادہ کو مانتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی صفت ِرحمت کی نفی کرتے ہیں ۔صفتِ ارادہ کو اس لیئے مانتے ہیں کہ یہ صفت (بقول ان کے )دلیلِ سمع اور دلیلِ عقل دونوں سے ثابت ہے۔ دلیلِ سمع: اللہ تعالیٰ کا یہ فرما ن ہے : [اِنَّ اللہَ يَفْعَلُ مَا يُرِيْدُ۝۱۴ ] ترجمہ:بے شک اللہ تعالیٰ وہی کرتا ہے جو ارادہ فرماتا ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب