کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 113

 ( اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی صفتِ ارادہ ثابت ہوگئی ) دلیلِ عقل: یہ ہے کہ مخلوقات کے اندر پایا جانے والا تنوع ،نیز ایک مخلوق کی دوسری مخلوق پر باعتبارِ ذات یا صفات پائی جانے والی برتری یا فوقیت (مخلوقات کے ارادے سے نہیں) بلکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے سے ہے ۔(جس سے عقلاً اللہ تعالیٰ کی صفت ارادہ ثابت ہوئی ) اشاعرہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ رحمت کی نفی کرتے ہیں ،کیونکہ بقول ان کے اللہ تعالیٰ کیلئے صفت رحمت کا اثبات دلیلِ عقل کے خلاف ہے ،کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ میں صفتِ رحمت مان لیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ رحم کرنے والے کے اندر اس بندے کیلئے جس پر وہ رحم کررہا ہے نرمی اور رقت کے جذبات پیدا ہوں (یہ انفعالی کیفیت ایک ایسا تغیرہے )جو اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہے ۔ ہم نے جب اشاعرہ کو یاد دلایا کہ صفتِ’’ رحمت ‘‘کا تو قرآن وحدیث میں بہت ذکر موجود ہے؟ تو انہوں نے جواب میں اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کی تأویل کردی ، اور وہ اس طرح کے اللہ تعالیٰ کے رحمت فرمانے سے مراد انعام دینا ،یا انعام دینے کا ارادہ یا فیصلہ فرمانا ہے ،( یعنی رحیم بمعنی منعم ہے) ہم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کا صفتِ رحمت سے متصف ہونا قرآن وحدیث کے بے شمار دلائل سے ثابت ہے،بلکہ صفتِ رحمت کے دلائل باعتبار تعداد اور باعتبارِتنوع ،صفتِ ارادہ سے کہیں زیادہ ہیں ۔ مثلاً : صفتِ رحمت کہیں تو بصیغۂ اسم وارد ہوئی ہے ،جیسے :’’اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ‘‘کہیں بصورت صفت مذکور ہے ،مثلاً:  ’’وَرَبُّکَ الْغَفُوْرُ ذُوْ الرَّحْمَۃِ‘‘اور کہیں بصیغہ فعل ذکر ہوئی ہے ، مثلاً: ’’ویرحم من یشائ‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب