کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 119

 ۴اہل تأویل کے چند شبہات اور ان کا ازالہ بعض اہل تأویل نے أھل السنۃ پر ایک اعتراض وارد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل ،قرآن وحدیث کے بعض نصوص کو تم نے بھی ان کے ظاہری معنی سے پھیراہے اور یوں تاویل کا ارتکاب کیا ہے،جس کا معنی یہ ہواکہ اہل السنۃ خود قرآن وحدیث کے نصوص میں تاویل کے مرتکب ہوئے ہیں یاکم از کم مداھنت کا پہلو ضرور اختیار کیا ہے ،تو پھر ہمارے تاویل روارکھنے کا انکار کیوں؟جبکہ خود بعض مواقع پر اس فعل کا سہارا لیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہم اہل تأویل کے اس اعتراض،جو درحقیقت شبہ ہی قرار پائے گا کے دو جواب دیتے ہیں،ایک مجمل ،دوسرا مفصل مجمل جوا ب : مجمل جواب مختصراً دو نکات میںمنحصر ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ جن نصوص کے بارہ میں تم اہل السنۃ کو تأویل کے مرتکب ہونے کا الزام دیتے ہو ہم ان کے بارہ میں قطعا تسلیم نہیں کرتے کہ اھل السنۃ نے ان کے معنیٔ ظاہرکو پھیرا یا بدلا ہے؛کیونکہ کسی بھی لفظ یاجملے کا جو معنیٰ مشہور ہوتا ہے وہی ظاہری معنی بنتا ہے ،اور یہ معنی، کلام کے ظاہری سیاق وسباق کے اختلاف سے مختلف ہوسکتا ہے ،بعض اوقات ترکیبِ کلام کی مناسبت سے ایک لفظ کا معنی بدل جاتا ہے، اور ظاہر ہے کہ کلام لفظوں اور جملوں سے ہی ملکر بنتا ہے،لہذا ان لفظوں اور جملو ں کے معنی کا تعین تب ہی ممکن ہے جب وہ آپس میں مل کر کلام کی شکل اختیار

  • فونٹ سائز:

    ب ب