کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 123

 [ان قلوب بنی آدم کلھا بین اصبعین من اصابع الرحمن کقلب واحد یصرفہ حیث یشائ]ثم قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم [اللھم مصرف القلوب صرف قلوبنا علی طاعتک] یعنی: تمام اولادِ آدم کے دل، قلبِ واحد کی طرح رحمن کی انگلیوں میں سے دوانگلیوں کے بیچ میں ہیں، وہ انہیں جس طرح چاہے پھیر دے۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی اے اللہ دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے۔ سلفِ صالحین اہل السنۃ نے اس حدیث میں کوئی تاویل نہیں کی، بلکہ اس کے ظاہری معنیٰ ہی کو لیا ہے،اللہ تعالیٰ کی حقیقی انگلیاں ہیں ہم انہیں اللہ تعالیٰ کیلئے اسی طرح ثابت کرتے ہیں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت فرمائیں۔بندوں کے دلوں کا اللہ تعالیٰ کی دوانگلیوں کے بیچ میں موجود ہونے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ وہ انگلیاں دلوں کو مس کررہی ہیں ،کیونکہ اس سے حلول کا وہم پیدا ہوتا ہے،لہذا یہاں اس جملہ کو معنی ظاہر سے پھیرنا پڑے گا(کیونکہ قرینہ موجود ہے)جیسے بادل زمین و آسمان کے بیچ موجود ہیں، لیکن نہ وہ آسمان کو مس کررہے ہیں نہ زمین کو چھورہے ہیں۔کہاجاتا ہے ’’بدر بین مکۃ والمدینۃ‘‘ یعنی چاند مکہ اور مدینہ کے بیچ میں ہے،حالانکہ چاند ،مکہ اور مدینہ میں سے کسی سے مس نہیں کررہا ہے ،بلکہ مکہ، مدینہ اور چاند کے درمیان کس قدر دوری موجود ہے ۔لہذا بندوں کے دلوں کا اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کے بیچ میں ہونا حقیقۃًثابت ہے،لیکن اس سے نہ تو مس کرنا لازم آرہا ہے نہ حلول۔ تیسری مثال: [انی اجد نفس الرحمن من قبل الیمن ](الحدیث)

  • فونٹ سائز:

    ب ب