کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 124

 یعنی :میں رحمن کا نفَس یمن کی طرف سے پاتاہوں، (یہاں شبہ یہ ہے کہ نفَس کا معنیٔ ظاہر سانس ہے، لیکن یہ معنی مراد نہیں لیاگیا ،جس سے ثابت ہوا کہ اہل السنۃ نصوصِ صفات میں تاویل کے مرتکب ہوئے ہیں) جواب یہ ہے کہ یہ حدیث مسند احمد میں بروایت ابوھریرۃرضی اللہ عنہ موجود ہے،رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ألا ان الایمان یمان والحکمۃ یمانیۃ وأجد نفَس ربکم من قبل الیمن] یعنی : ایمان تو یمنی ہے اور حکمت بھی،اورمیں تمہارے پروردگار کے نفس کو یمن کی طرف سے پاتاہوں۔ ’’ مجمع الزوائد‘‘ میں ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی (شبیب کے علاوہ) صحیح بخاری کے ہیں، شبیب صحیح بخاری کا راوی نہیں ہے لیکن وہ ثقہ ہے۔تقریب التھذیب میں شبیب کو ثقہ اور طبقہ ثالثہ کا راوی قرار دیا گیاہے۔ اس جیسی ایک روایت امام بخاری رحمہ اللہ نے ’’التاریخ الکبیر‘‘ میں بھی روایت فرمائی ہے۔ اس حدیث میں اہل السنۃ نے کوئی تاویل نہیں کی،بلکہ معنیٔ ظاہر ہی مراد لیا ہے،چنانچہ ’’نَفَسَ‘‘ (بفتح الفاء )بابِ تفعیل’’ نفَّس  ینفس تنفیسا ونَفَسًا ‘‘سے مصدرِ ثانی ہے اس کے وزن پر دوسری مثال ’’فَرَّجَ یفرج تفریجا وفَرَجاً‘‘ دی جاسکتی ہے۔النھا یۃ،القاموس اور مقاییس اللغہ میں علماءِ لغت نے اسی طرح بیان فرمایاہے۔مقاییس اللغہ میں ہے ’’نَفَسَ‘‘ سے مرادمکروب یعنی کرب زدہ شخص کے کرب کو دور کرنا ہے۔‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب