کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 126

 اس معنی کو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور اکثر مفسرین کا قول قرار دیا ہے۔ اب یہاں ’’استواء الی السماء‘‘ کا معنیٔ ظاہر یعنی’’ ارتفاع الی السماء ‘‘مراد لیا گیا، اور’’ارتفاع الی السماء ‘‘ کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیاگیا،(یعنی بفحوائے آیتِ کریمہ ’’ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ‘‘ اس کاآسمان کی طرف چڑھنا ثابت اور برحق ہے،لیکن چڑھنے کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ،جسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کرنا ضروری ہے) ’’ استویٰ الی السماء ‘‘کا دوسرا معنی قصدِ تام ہے۔یعنی’’ پھر اللہ تعالیٰ نے آسمانوں کی طرف قصدفرمایا…‘‘ امام ابنِ کثیر نے سورۃ البقرۃ اورامام بغوی نے سورۂ فصلت کی تفسیرمیں اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ‘‘کامعنی یہ ہے کہ پھر اس نے آسمانوںکی طرف قصدفرمایا۔یہاں ’’استواء‘‘ قصد کرنے اور متوجہ ہونے کے معنی میں ہے،کیونکہ یہ’’الی‘‘ کے ساتھ متعدی ہے ۔‘‘ اما م بغوی نے بھی ’’ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَائِ‘‘کا معنی ’’عمد الی خلق السماء‘‘کیا ہے، یعنی اس نے آسمانوںکو خلق فرمانے کا قصدفرمایا۔ واضح ہوکہ یہاں’’استواء‘‘ بمعنی ’’قصد‘‘ کی تفسیر کلام کو معنیٔ ظاہر سے پھیرنا قرارنہیں دی جاسکتی،کیونکہ فعل ’’استویٰ ‘‘حرف’’ الی ‘‘سے ملاہواہے اور حرفِ ’’الی‘‘غایت اورانتہاء پر دلالت کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ فعل (استویٰ)ایک ایسے معنی کی طرف منتقل ہوگیا جو حرفِ مقترن یعنی’’ الی‘‘کے بالکل مناسب ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب