کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 127

 اس کی ایک اور مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: [عَيْنًا يَّشْرَبُ بِہَا عِبَادُ اللہِ ] ترجمہ:چشمہ ،جس سے اللہ کے بندے سیراب ہونگے۔ اب’’یشرب‘‘کا اصل معنی پینا ہے لیکن یہاں سیراب ہونا مرادہے،(یعنی یشرب بمعنی یروی) کیونکہ فعلِ’’ یشرب ‘‘حرفِ باء کے ساتھ ملکر آیاہے لہذا بمعنی’’ یروی‘‘کی طرف منتقل ہوگیا جو’’ باء ‘‘کے مناسب ہے ۔ ثابت ہوا کہ بعض اوقات فعل اپنے متعلقہ حرف کی وجہ سے اپنے اصل معنی سے معنیٔ دیگر کی طرف منتقل ہوجاتاہے،تاکہ کلام میں حرف کے معنی کی مناسبت پیدا ہوجائے۔(خلاصہ یہ ہے کہ استواء کا مذکورہ معنی ،متعلقہ حرف’’الی‘‘کی مناسبت سے ہے ،لہذا یہ معنیٔ ظاہر سے عدول قرار نہیں پائے گا۔ پانچویں اور چھٹی مثال:اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحدید میں فرمایا: [وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰ۭ ] ترجمہ: اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے۔ سورۂ المجادلۃ میں فرمایاـ:[وَلَآ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَلَآ اَكْثَرَ اِلَّا ہُوَمَعَہُمْ اَيْنَ مَا كَانُوْا۝۰ۚ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب