کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 130

 معیت اس امر کی متقاضی ہے کہ وہ باعتبارِعلم ،قدرت،سمع،بصر،تدبیر،بادشاہت اور شانِ ربوبیت کی دیگر متقاضیات کے ساتھ پوری خلق کا احاطہ کیئے ہوئے ہے ،جبکہ اس کی ذاتِ اقدس پوری خلق کے اوپر عرش پر مستوی ہے۔ اس تقریر سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ معیت پر مشتمل مذکورہ دونوں آیات کا بلاشبہ یہی معنیٔ ظاہر ہے، کیونکہ یہ دونوں آیات حق ہیں اور حق کا معنیٔ ظاہر حق ہی ہوتا ہے،جبکہ قرآنِ مجید جو کتابِ حق ہے کے کسی لفظ کا معنی،معنیٔ باطل نہیں ہوسکتا۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ لابن القاسم کے الفتویٰ الحمویۃ (۵/۱۰۳)میں فرماتے ہیں:اللہ تعالیٰ کی معیت کے باعتبارِ مقام وسیاقِ آیات،مختلف معانی واحکام ہیں،مثال کے طورپر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : [يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا۝۰ۭ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝۴ ] ترجمہ:وہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اورجو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے،اورجہاں کہیں تم ہووہ تمہارے ساتھ ہے اور جوتم کررہے ہو اللہ دیکھ رہاہے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ معیت مذکور ہے اور سیاقِ آیت اور مناسبتِ مقام سے ظاہر ہورہا ہے کہ یہاں معیت کا معنی،حکم یامقتضیٰ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر پوری پوری طرح مطلع، باخبر اور گواہ ہے، تمہارے تمام امور جانتاہے اور تمہارا پوری طرح احاطہ کیئے ہوئے ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں سلفِ صالحین کے قول ’’انہ معھم بعلمہ‘‘ کا یہی معنی ومرادہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب