کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 136

 کوئی بھی شخص یہ سمجھنے کی کوشش وجسارت نہ کرے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی(کتاب وسنت) میں آپس میں تناقض پایاجاتاہے،اور اس سلسلہ میں وہ یہ مثال پیش کرے کہ کتاب وسنت میں یہ بات وارد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات عرش پر مستوی ہے ،یہ بات ظاہراًاللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مخالف ومتعارض ہے:[وَھُوَ مَعَکُمْ]یعنی (وہ تمہارے ساتھ ہے) نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے خلاف ہے:[اذا قام أحدکم فی الصلوۃ فان ﷲ قِبَل وجھہ ] یعنی (جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں کھڑاہوتا ہے تواللہ تعالیٰ اس کے چہرے کے سامنے ہوتاہے) واضح ہو کہ ان نصوص میں دعوۂ تعارض باطل ومردود ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ ہونا بھی محمول بر حقیقت ہے،اور اس ذاتِ وحدہ لاشریک کا مستوی علی العرش ہونا بھی محمول برحقیقت ہے،جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمانِ درج ذیل میں دونوں باتوں کو یکجا ذکرفرمایاہے: [ہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِـتَّۃِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْـتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ۝۰ۭ يَعْلَمُ مَا يَـلِجُ فِي الْاَرْضِ وَمَا يَخْــرُجُ مِنْہَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاۗءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيْہَا۝۰ۭ وَہُوَمَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ۝۰ۭ وَاللہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ۝۴ ] ترجمہ:وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا،وہ خوب جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اورجو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے،اورجہاںکہیں تم ہووہ تمہارے ساتھ ہے اور جوتم کررہے ہو اللہ دیکھ رہاہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب