کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 137

 اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ وہ اپنے عرش کے اوپرہے،کائنات کی ہر چیز کوجا نتا ہے،اور ہم جہاں بھی ہوں ہمارے ساتھ ہے۔یہی بات حدیث الاوعال میں مذکور ہے[وﷲ فوق العرش وھو یعلم ما أنتم علیہ]یعنی(اللہ تعالیٰ عرش پر ہے اور تمہارے ہر معاملے کو جانتا ہے) واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ معیت، اس حقیقت کے ساتھ، جیسی اس ذات کے لائق ہے،اپنے ظاہری معنی کے ساتھ،اللہ تعالیٰ کی ذات کے مستوی علی العرش ہونے کے متعارض ومتناقض نہیں ہے،اس کی تین وجوہات ہیں: (۱) پہلی وجہ: اللہ تعالیٰ نے دونوں حقیقتوں کو اپنی کتابِ مبین میں بیان فرمایاہے،کتابِ مبین ہر تناقض سے پاک ہے،ہماراایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں جن حقائق کا تذکرہ فرمایا ہے ان میں کوئی تناقض نہیں ہے اور اگر قرآنِ حکیم میں کسی مقام پر آپ کو بظاہر کوئی تناقض دکھائی دے تو دعویٔ تناقض کے بجائے وہاں تدبروتفکر سے کام لو تاآنکہ تناقض دور ہوجائے اورحق واضح ہوجائے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: [اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ۝۰ۭ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللہِ لَوَجَدُوْا فِيْہِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا۝۸۲ ] ترجمہ:یہ لوگ قرآن پر تدبر کیوں نہیں کرتے اگر یہ غیر اللہ کی طرف سے آیاہوتا تو لوگ اس میں بڑااختلاف اورتناقض پاتے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب