کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 145

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے اپنی انگلی آسمان کی طرف اٹھاکرفرمایا:[اللھم أغثنا] یعنی:اے اللہ ہمیں بارش عطا فرما۔ یومِ عرفہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے پوچھا: کیامیں نے پورادین پہنچادیاہے ؟تولوگوں نے کہا:ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پورادین پہنچادیا،امانت اورخیرخواہی کا حق اداکردیا۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکرفرمایا: [اللھم اشھد] یعنی:اے اللہ !توگواہ رہ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈی سے پوچھا:[این ﷲ؟] (اللہ تعالیٰ کہاںہے؟)اس نے جواب دیا: [فی السمائ] (آسمان کے اوپر) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس بات کی تقریر وتائید فرمائی اور اس کے آقا سے کہا [اعتقھا فانھا مؤمنۃ](اسے آزاد کردو یہ مؤمنہ ہے) جہاںتک دلیلِ عقل سے صفتِ علو کے ثبوت کا تعلق ہے تو عقل کی دلالت وشہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کیلئے وجوباً ہرصفت ِکمال کا اثبات ہواور ہر صفتِ نقص سے اس کی تنزیہ اور پاکیزگی ہو…اورظاہر ہے، علو صفتِ کمال ہے ،اور سفل (نیچائی) صفتِ نقص ۔لہذا یہ بات متعین ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کیلئے صفتِ علو کا اثبات واجب ہے،اور اس کا نقیض یعنی سفل کی نفی ضروری ہے۔ فطرت بھی اللہ تعالیٰ کیلئے بدیہی طور پر صفتِ علو کے اثبات پر دال ہے ،چنانچہ کوئی بھی دعا

  • فونٹ سائز:

    ب ب