کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 148

 آگے ذکر کیا ہے کہ :…اللہ تعالیٰ اس بات سے پاک اورمنزہ ہے کہ وہ مخلوقات کے ساتھ مختلط ہویاان میں حلول کیئے ہوئے ہو،بلکہ وہ اپنی ذات وصفات کے ساتھ بلندہے اور بلندی پر ہونا اس کی وہ صفتِ ذاتیہ ہے جو کبھی اس سے الگ نہیں ہوتی اور وہ عرش پر مستوی ہے…الخ اسی بیان میں،میں نے آگے چل کر یہ بھی کہاتھا : ’’ ہمارا یہ بھی عقیدہ ہے کہ جس شخص کا یہ خیال ہوکہ اللہ تعالیٰ بذاتہ ہرجگہ ہے تو اگر یہ اس کا عقیدہ ہے تو وہ کافر اورگمراہ ہے اوراگر اس عقیدہ کو سلفِ صالحین یاأئمہ کرام کی طرف منسوب کرتا ہے تو انتہائی جھوٹاہے۔ ‘ ‘ ایک سمجھدرا آدمی جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو اور کماحقہ اس کی قدر بجالاتا ہویہ ممکن ہی نہیں کہ وہ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ زمین پر اپنی خلق کے ساتھ ہے۔میں اپنی ہرمجلس میں کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ معیت پر گفتگوآجائے اس کا انکارکرتا رہتا ہوں اور کرتارہونگا،میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے تمام مسلمان بھائیوںکو دنیا اور آخرت میں کلمۂ توحید پرثابت قدمی عطا فرمائے۔ اس کے بعد میں نے ایک مقالہ بھی تحریر کیا جو ریاض سے شائع ہونے والے مجلۃ’’ الدعوۃ ‘‘ میں بروز پیر۴ محرم الحرام سنہ ۱۴۰۴ ھ شمارہ نمبر ۹۱۱ میں شائع ہواتھا۔اس مقالہ میں میں نے وہی کچھ لکھا اور ثابت کیا جو شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ثابت کیا ہے ، یعنی :اللہ تعالیٰ کی اپنی خلق کے ساتھ معیت حق ہے اورحقیقت پر قائم ہے ،لیکن وہ متقاضیٔ حلول واختلاط بالخلق نہیں ہے چہ جائیکہ مستلزمِ حلول واختلاط ہو۔اس مقالہ میں میں نے اللہ تعالیٰ کے علو کی حقیقت اور معیت مع الخلق کی حقیقت میں جمع کی وجوہات بیان کی ہیں۔ میں نے اپنی اس تحریر میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ میں

  • فونٹ سائز:

    ب ب