کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 153

ترجمہ:جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی۔ نیز موسیٰ علیہ السلام کے قصہ میں فرمایا:[وَلِتُصْنَعَ عَلٰي عَيْنِيْ۝۳۹ۘ ] ترجمہ:تاکہ تیری پرورش میری آنکھوں کے سامنے کی جائے۔ جواب: ان دونوں آیتوں کا معنی ومراد ظاہرِ کلام اور حقیقت پر مبنی ہے،لیکن غور یہ کرنا ہے کہ یہاں ظاہرِکلام کیا چیز ہے؟کیا ظاہرِ کلام یہ ہے کہ سفینۂ نوح اللہ تعالیٰ کی آنکھ میں چل رہا تھا؟اور موسیٰ علیہ السلام کی پرورش اللہ تعالیٰ کی آنکھ کے اوپر ہورہی تھی؟ یاپھر ظاہرِ کلام یہ ہے کہ سفینۂ نوح چل رہا تھا اور اللہ تعالیٰ کی آنکھ اس کی نگرانی وحفاظت فرمارہی تھی،اسی طرح موسیٰ علیہ السلام کی پرورش وکفالت اللہ تعالیٰ کی آنکھ کے سامنے اس کی نگرانی وحفاظت میں ہورہی تھی ۔ ان دونوں آیتوں کی ذکر کردہ پہلی تفسیر باطل ہے، اور اسکی دووجوہات ہیں: (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ تعبیر کلامِ عرب،یا عربی تعبیر کے مقتضیٰ کے خلاف ہے،اور ظاہر ہے قرآنِ مجید عربی لغت میں نازل ہواہے ۔کقولہ تعالیٰ: [اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۝۲ ] ترجمہ:یقینا ہم نے اس کو عربی قرآن بناکر نازل فرمایاہے،کہ تم سمجھ سکو۔ نیز فرمایا: [نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۝۱۹۳ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۝۱۹۴ۙ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ۝۱۹۵ۭ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب