کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 156

 جواب:سلف صالحین اہل السنۃ والجماعۃ نے اس حدیث کے ظاہر کولیا ہے،(یعنی بلاتاویل قبول کیا ہے،)اور اسے اس کی حقیقت پر محمول کیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں ظاہرِ حدیث کیا ہے؟کیاظاہرِ حدیث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی بندے کا کان ،آنکھ،ہاتھ اور پاؤںبن جاتا ہے؟ یاظاہرِ حدیث یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولی بندے کے کان،آنکھ،ہاتھ اور پاؤں کو اس قدر سیدھا کردیتا ہے کہ ان اعضاء سے اس کا کیا گیا ہر عمل،بلکہ اس کا مکمل شعور وادراک اللہ تعالیٰ کیلئے ہوجاتاہے،اللہ تعالیٰ کی مددپر قائم ہوجاتاہے،اور مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہو جاتا ہے۔ پہلاقول ظاہرِ حدیث نہیں ہوسکتا ،بلکہ حدیث کے سیاق پر غور کرنے والا سمجھ جائے گاکہ پہلا قول اس حدیث کا مقتضیٰ بنتا ہی نہیں ،چنانچہ حدیث کے اندر ہی اس قول کی نفی دو وجوہ سے موجود ہے۔ پہلی وجہ یہ کہ اس حدیث کا اول حصہ یوں ہے:[اورمیرابندہ نوافل کے ذریعے میراقرب حاصل کرتا رہتاہے،حتی کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں]اور آخری حصہ میں یہ الفاظ مروی ہیں:[اور اگر وہ مجھ سے کچھ مانگے گاتو میں اسے ضرور عطافرماؤنگااور اگر میری پناہ طلب کرے گا تو میں اسے ضرور پناہ عطافرماؤنگا]اس حدیث سے دو ذاتیں ثابت ہورہی ہیں۔ ایک عبد (بندہ) اوردوسری معبود ۔ ایک متقرِب (قرب حاصل کرنے والا) دوسرا متقرَّب إلیہ(جس کاقرب حاصل کیاجائے) ایک محب (محبت کرنے والا )دوسرامحبوب(جس سے محبت کی جا ئے) ایک سائل( مانگنے والا) دوسرا مسئول (جس سے مانگا جائے)

  • فونٹ سائز:

    ب ب