کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 161

اہل السنۃ والجماعۃ اس قسم کے نصوص کو ان کے ظاہری وحقیقی معنی پر محمول کرتے ہیں،وہ معنی جو اللہ تعالیٰ کے لائقِ شان ہے،جو ہرقسم کی تکییف (بیانِ کیفیت) اور تشبیہ وتمثیل سے پاک ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (۵/۴۶۶)میں حدیثِ نزول کی شرح کرتے ہو ئے فرماتے ہیں: ’’اللہ رب العزت کا اپنے بعض بندوں کے قریب ہونا ،اللہ رب العزت کی وہ صفت ہے جو دیگر افعالِ اختیاریہ مثلاً: اللہ تعالیٰ کا آنا ،اللہ تعالیٰ کا نزول فرمانا،اللہ تعالیٰ کا عرش پر مستوی ہونا، کی طرح اللہ تعالیٰ کیلئے ثابت ہے،اور یہ کہ اللہ رب العزت اپنے افعالِ اختیاریہ خود انجام دیتا ہے، سلفِ صالحین، معروف أئمہ اسلام اور اہل الحدیث کا یہی مذہب ہے،اور اس حوالے سے ان کے اقوال تواتر کے ساتھ منقول ہیں ‘‘ اب وہ کون سا مانع ہے جو اللہ رب العزت کے اپنے بندے کے قریب ہونے میں رکاوٹ بنے،اللہ تعالیٰ اپنے علو پر قائم رہتے ہو ئے ،جس طرح چاہے اپنے بندے کے قریب ہو جائے۔ اسی طرح وہ کون سا مانع ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت ’’اتیان، مجیٔ ‘‘(یعنی آنے) سے مانع ہو؟ اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے(جیسے اس ذات کے لائق ہے) آتاہے ،ہم اس کے آنے کی نہ تو کیفیت بتلاسکتے ہیں ،نہ اس کے آنے کو کسی مخلوق کے آنے کے مشابہ قرار دے سکتے ہیں۔ ان صفات کا اللہ تعالیٰ کیلئے اثبات سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ یہ عین اللہ تعالیٰ کے کمال کا مظہر ہیں ،اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ’’فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ‘‘یعنی جو چاہتا ہے کرلیتاہے،بالکل اس طریقہ سے جو اس ذاتِ پاک کے لائق اور شایانِ شان ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب