کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 162

 کچھ لوگ مذکورہ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کے فرمان :[أتیتہ ھرولۃ] یعنی میں ا س کی طرف دوڑکر جاتا ہوں ،سے مراد اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر جلد متوجہ ہونا اورجلدی سے دعا قبول کرنا،لیتے ہیں۔یہ اس بندے کیلئے ہے جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا متلاشی اورطلبگار ہے،اور اس کے لیئے اپنے دل اور تمام اعضاء کے ساتھ اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے کو اس کے عمل سے کہیں بڑھ کر بڑی تیزی کے ساتھ جزاء عطافرمادیتاہے۔ انہوں نے اپنے اس معنی ومراد کی توجیہ اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندے کے حوالے سے بھی یوں فرمایاہے:[ومن اتانی یمشی ]کہ جو میرے پاس چل کر آئے گا۔اور یہ بات معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا متلاشی اور اس کے وصل کا طالب،اس قرب ووصل کو محض قدموں سے چل کر نہیں پاتا۔ یہ درست ہے کہ بعض اوقات چلنا باعثِ اجر وثواب ہوتا ہے،جیسا کہ مساجد کی طرف چل کر جانا،مشاعرِ حج اور جہادِ فی سبیل اللہ کیلئے چلنا وغیرہ ۔لیکن اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کے اور بھی بہت سے ذرائع ووسائل ہیں،مثلاً: رکوع وسجودوغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إن اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد] ترجمہ:بندہ سب سے زیادہ اپنے پروردگار کا قرب اس وقت پاتا ہے جب وہ سجدے میں ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب