کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 164

 معنی سیاقِ حدیث سے شرعی قرینہ کے پیشِ نظر کیاگیاہے)نہ ہی اس معنی کو معطلہ کے انداز کی تاویل قرار دیکر اہل السنۃ کے خلاف کوئی حجت قائم کی جاسکتی ہے ۔(وﷲ الحمد) اس قول کا جو بھی قائل ہے وہ اس وجیہ اور قابلِ غوراجتہاد واستدلال پر مستحقِ اجر ہے۔ مگر ہم پہلے قول کو زیادہ واضح ،پُرعافیت اور مذہبِ سلف کے زیادہ لائق اور قریب ترین قرار دیتے ہیں ۔ (جس کا ملخص یہ ہے کہ اس قسم کے امور اللہ تعالیٰ کے افعالِ اختیاریہ کے ضمن میں ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ جس طرح چاہتا ہے انجام دیتا ہے اور اس طرح انجام دیتا ہے کہ اس کا علو و استواء علی العرش بھی ثابت وبرقرار رہتا ہے، اور ان افعالِ اختیاریہ کی نہ تو ہم کیفیت جانتے ہیں نہ ان کے بارہ میں تشبہ بالمخلوقات کا عقیدہ رکھتے ہیں) واضح ہو کہ مذکورہ قول کے قا ئل نے جس قرینہ سے مذکورہ استدلال کیا ہے،اس کا جواب ممکن ہے، اس قائل نے اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول اور اس تک رسائی حاصل کرنے کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ صرف’’ مشی ‘‘یعنی چلنے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ،اور بھی بہت سے طرق ہیں، کما تقدم۔ (لہذا جس طرح بندے کا اللہ تعالیٰ کی طرف چل کرجانا حقیقی معنی پر محمول نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بندے کی طرف دوڑ کر آنامحمول برحقیقت نہیں ہوگا) اس کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ حدیث میں چلنے کا ذکر علی سبیل المثال ہے،نہ کہ علی سبیل الحصر۔لہذا حدیث میں اگر’’ مشی ‘‘ یعنی چلنے کا ذکر ہے تو اس سے مقصود ان عبادا ت کی مثال دینی ہیں جو ’’ مشی ‘‘سے حاصل ہوتی ہیں، جیسے مساجد کی طرف چل کر جانا اورجیسے بیت اللہ کا طواف اور صفا،مروہ کی سعی وغیرہ ۔ واللہ اعلم تیرہویں مثال:اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب