کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 166

 ترجمہ:تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہے۔ نیز فرمایا: [ظَہَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِيْ عَمِلُوْا لَعَلَّہُمْ يَرْجِعُوْنَ۝۴۱ ] ترجمہ:خشکی اورتری میں لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کے باعث فساد پھیل گیا،اس لیئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے بہت ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔ نیز فرمایا: [ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ ] ترجمہ:یہ تمہارے ہاتھوں کے بھیجے ہوئے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ان آیات میں اگرچہ کمانے اور بڑھانے کی نسبت ہاتھوں کی طرف ہے ،مگر مراد انسان کی ذات ہے،لہذا ہاتھوں کے بغیر بھی اگر کسی معصیت کا ارتکاب کرے گاتو وہ پکڑ کا باعث بنے گی… البتہ کلامِ عرب کی روشنی میں اگر کوئی شخص یوں کہے :’’عملتہ بیدی ‘‘ یعنی فلاں کام میں نے اپنے ہاتھ سے کیا ہے،تو اس سے مراد ہاتھ کا عمل ہی ہوگا۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْہِمْ۝۰ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللہِ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب