کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 167

 ترجمہ:ان لوگوں کیلئے ’’ویل ‘‘ہے جواپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ تعالیٰ کی طرف کی کہتے ہیں۔ یہاں براہِ راست ہاتھ سے کیا جانے والا عمل مراد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگرآیتِ مذکورہ کا معنیٔ مراد یہی ہوتا کہ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو اپنے ہاتھ سے پیدافرمایا ہے تو آیتِ کریمہ یوں ہوتی:’’خَلَقْنَا لَھُمْ بِاَیْدِ یْنَا اَنْعَامًا‘‘(یعنی ہم نے ان کیلئے اپنے ہاتھوں سے چوپایوں کو پیدافرمایا)جیساکہ اللہ تعالیٰ نے خلقِ آدم علیہ السلام کے حوالے سے ارشاد فرمایا:[مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَيَّ۝۰ۭ ] یعنی:تجھے اسے سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکاجسے میں نے ا پنے دو نوں ہاتھوں سے پیداکیا۔ کیونکہ قرآنِ حکیم بیان وتوضیح کیلئے ہے نا کہ تعمیہ (اندھیرے میں رکھنے ) کیلئے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتٰبَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ ] ترجمہ:اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل فرمائی ہے،جس میں ہر چیز کا شافی بیان ہے۔ جب قولِ اول کا بطلان واضح ہوگیا تو قولِ ثانی کا صحیح ہونا طے پاگیا۔جس کا ملخص یہ ہے کہ یہاں ظاہرِ آیت اس امرکی متقاضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو بھی دیگرتمام مخلوقات کی طرح پیدا فرمایا ہے، یعنی چوپایوں کو(آدم علیہ السلام کی طرح) اپنے ہاتھ سے نہیں بنایا۔لیکن خلقِ انعام کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب