کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 168

اپنے ہاتھ کی طرف نسبت فرمائی، جس سے مراد ا پنی ذات ہے۔لغتِ عربیہ کا یہی مقتضیٰ ہے۔ البتہ جب کسی فعل کو اپنی ذات کی طرف منسوب کرکے حرفِ ’’باء‘‘ کے ذریعے ’’ ید ‘‘یعنی ہاتھ کی طرف متعدی کردیاجائے،تو اس سے مراد اس عمل کا ہاتھ کے ذریعے ہی انجام دیناہے… دونوں جملوں کے استعمال میں فرق کو بخوبی سمجھ لیجئے،کیونکہ متشابہات میں فرق کیلئے ان اسالیب وتراکیب کا فہم، علم کی انتہائی عمدہ قسم ہے،اس فہم سے بہت سے اشکال خود بخود رفع ہوجاتے ہیں ۔ چودھویں مثال: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ۝۰ۭ يَدُ اللہِ فَوْقَ اَيْدِيْہِمْ۝۰ۚ ] ترجمہ:جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ یقینا اللہ سے بیعت کرتے ہیں ،ان کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ جواب : اس آیت کے ضمن میں دو جملے قابلِ غور ہیں : (۱) پہلا جملہ :[اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ]ہے۔سلفِ صالحین اہل السنۃ نے اس آیتِ کریمہ کا ظاہری وحقیقی معنی مراد لیا ہے،جو یہ ہے کہ صحابہ کرام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔جیسا کہ دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ کاارشادہے:[لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ ] ترجمہ:یقینا اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے خوش ہوگیا جب کہ وہ درخت تلے تجھ سے بیعت کررہے تھے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب