کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 169

 آیتِ کریمہ :[ اِنَّمَا يُبَايِعُوْنَ اللہَ] سے کوئی شخص یہ نہ سمجھے کہ صحابہ کرام نے ذاتِ باری تعالیٰ سے بیعت کی،نہ ہی اس معنی کے متعلق آیتِ کریمہ کے ظاہری معنی ہونے کا دعویٰ کیا جائے،کیونکہ یہ معنیٰ آیتِ کریمہ کے ابتدائی حصہ کے خلاف ہے،نیز پیش کردہ دوسری آیت کے بھی خلاف ہے،نیز امرِ واقع کے بھی خلاف ہے،(امرِ واقع یہ ہے کہ تمام صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی) نیز یہ معنی اللہ تعالیٰ کے حق میں ناممکن ومحال ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کو ا پنی بیعت اس لیئے قراردیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ،نمائندے اور ایلچی ہیں،اور یہ بات معلوم ہے کہ صحابہ کرام نے یہ بیعت، جہادِ فی سبیل اللہ کے اہم نکتہ پر کی تھی، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس ذات کی راہ میں کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا،جہاد کی بیعت، اس بھیجنے والی ذات کی بیعت ہی قرار پائے گی،کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کے رسول ہیں،اور اس کے دین کو پہنچانے والے ہیں۔ یہ بالکل ویساہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت درحقیقت اس ذات کی ا طاعت ہے ،جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: [مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۝۰ۚ] یعنی: جو رسول کی اطاعت کرتا ہے،اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔ صحابہ کرام کی اس بیعت کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت واضافت میں کئی ارفع واعلیٰ حکمتیں پنہاں ہیں ، جن میں:

  • فونٹ سائز:

    ب ب