کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 171

 اسی طرح اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا بیعت کرنے والوں کے ہاتھوں کے اوپر ہونا اسی عقیدہ کے ساتھ منسلک ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خلق سے جدا،سب سے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ واضح ہوکہ یہاں کسی شخص کیلئے قطعی طورپر کوئی گنجائش نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:[يَدُ اللہِ فَوْقَ اَيْدِيْہِمْ] کے تحت یہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہے،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہاں ہاتھ کی نسبت اپنی ذات کی طرف فرمائی ہے،اور پھر اپنے ہاتھ کے بارہ میں فرمایا: کہ وہ ان کے ہاتھوں کے اوپر تھا۔جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ بیعت کے وقت صحابہ کے ہاتھوں کے اوپر نہیں ہوتا تھا،بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ہاتھ ان کی طرف پھیلادیتے اور مصافحہ کے انداز سے ان کے ہاتھوں کوپکڑلیتے،تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے ساتھ ہوتا نہ کہ اوپر۔ پندرہویں مثال: ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: [یاابن آدم مرضت فلم تعدنی ](الحدیث) واضح ہوکہ یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے،اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے صحیح مسلم میں بروایت ابوھریرۃرضی اللہ عنہ نقل فرمایا ہے،( کتاب البر والصلۃ والآداب (رقم ۴۳، ص ۱۹۹) مکمل حدیث ملاحظہ ہو: [عن ابی ھریرۃ رضی ﷲ عنہ قال :قال رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم :ان ﷲتعالیٰ یقول یوم القیامۃ :یاابن آدم مرضت فلم تعدنی قال:یارب کیف اعودک وانت رب العالمین قال:اما علمت ان عبدی فلانا مرض فلم تعدہ اما علمت انک لوعدتہ لوجدتنی عندہ یاابن آدم استطعمتک فلم تطعمنی قال:یارب وکیف

  • فونٹ سائز:

    ب ب