کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 176

 خاتمہ اگر کوئی شخص کہے :ہمیں یہ بات معلو م ہوگئی کہ صفاتِ باری تعالیٰ کے باب میں اہلِ تاویل کا مذہب باطل ہے،اور یہ بات بھی معلوم ہے کہ سب سے زیادہ صفات میں تاویلیں گروہِ اشاعرہ کی ہیں،تو پھر ان کا مذہب کیونکر باطل ہوسکتاہے، جبکہ یہ بتایاجاتا ہے کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں ان کی تعداد%۹۵ہے ،نیز یہ کہ اس باب میں ان کا امام ومقتدیٰ ابو الحسن الاشعری جیسی شخصیت ہے، تو پھر ان کامذہب کیسے باطل ہوسکتا ہے؟پھر ان میں فلاںاور فلاں بڑے بڑے علماء ہیں جن کی اللہ تعالیٰ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،قرآن وحدیث اور حکام ورعیت کیلئے خیرخواہی کے جذبات معروف ومسلّم ہیں،تو پھر ان کامذہب کیسے باطل ہوسکتا ہے؟ جواب: پہلے سوال کا جواب تو یہ ہے کہ ہم یہ تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں کہ دنیا کے تمام فرقوں اور جماعتوں میں اشاعرہ کی تعداد %۹۵ ہے،یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا اثبات انتہائی دقیق اعداد وشمار کا طالب ومتقاضی ہے۔دوسری بات یہ کہ اگر ہم تسلیم بھی کرلیں کہ وہ اتنی یا اس سے زیادہ تعداد میں موجود ہیں،تو یہ تعداد ان کے معصوم عن الخطاء ہونے کی ہرگزدلیل نہیں بن سکتی،کیونکہ عصمت مسلمانوں کے اجماع میں ہے نہ کہ کثرتِ تعداد میں۔ اب ہم غور کرتے ہیں کہ دورِقدیم کے مسلمانوںکا اجماع کس چیز پر قائم ہے،اس کا جواب یہ ہے کہ دورِ قدیم کے مسلمانوںکا اجماع اہلِ تاویل کے مذہب کے خلاف قائم ہے۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب