کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 179

 عبداللہ بن سعید بن کلاب کا منہج تھا،جس کے وہ پیروکار بن گئے،شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ(۱۶/۴۷۱) میں فرماتے ہیں: ’’ ابو الحسن الاشعری اور اس جیسے دیگر لوگ سلفِ صالحین اورجہمیہ کے درمیان برزخ کی حیثیت رکھتے ہیں،انہوں نے کچھ باتیں سلفِ صالحین سے لے لیں،جو صحیح تھیں،اور کچھ عقلی اصول جہمیہ سے لے لئے ،جنہیں وہ صحیح سمجھتے رہے،حالانکہ وہ سب باطل اورفاسد تھے۔‘‘ (۳) تیسرا اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ وہ باطل منہج سے رجوع کرکے ،امامِ اھل السنۃ امام احمد بن حنبل کے منہج کو سینے سے لگالیتے ہیں،جو تمام اھل السنۃ اھل الحدیث کا مذہب تھا،چنانچہ وہ خود اپنی کتاب ’’الابانۃ عن اصول الدیانۃ‘‘ جو ان کی آخری کتب میں شمار ہوتی ہے کے مقدمہ میں فرماتے ہیں: ’’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس کتاب ِعزیز لے کرآئے،ایسی کتاب کہ باطل کو نہ اس کے آگے سے، نہ اس کے پیچھے سے حملہ کرنے کی جرأت ہے،وہ اللہ تعالیٰ، حکمت والے،سزوارِ حمد وثناء کی کتاب ہے،اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے اولین کے تمام علوم کو جمع فرمادیاہے،اور دین اور اسکے فرائض کی تکمیل فرمادی،یہی اللہ تعالیٰ کاصراطِ مستقیم ہے اور یہی اس کی مضبوط رسی ہے، جس نے اسے مضبوطی سے تھاما،نجات پاگیا،اورجس نے اس کی مخالفت مول لی گمراہ وبرباد ہوگیا،وہ ہمیشہ جہل کی اتھاہ گہرائیوں اور تاریکیوں میں بھٹکتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ مقدس میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر تمسک واعتصام کا حکم دیا، چنانچہ فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب