کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 181

 ان کے درجات بلند فرمائے اوران کو اجرِعظیم سے نواز دے، کے منہج کے قائل ہیں،اورجوشخص امام احمد بن حنبل کے عقیدہ ومنہج کے مخالف ہے، اس سے کنارہ کشی اختیار کرنے والے ہیں؛کیونکہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ امامِ فاضل اور رئیسِ کامل ہیں۔‘‘ اس کے بعد ابو الحسن الاشعری نے امام احمد بن حنبل کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو تائیدِ حق فرمائی اس کی بہت تعریف کی،پھر صفاتِ باری تعالیٰ ،مسائل قدر،شفاعت اور بعض دیگر شبھات کا نقلی وعقلی دلائل سے اثبات پیش کیا۔ افسوس کہ متأخرینِ اشاعرہ نے جو ان کی طرف منسوب ہونے پر فخر کرتے ہیںان کی زندگی کے تین مذکورہ مراحل میں سے دوسرے مرحلہ کو تھام لیا،اور بیشتر صفات میں تاویل کی روش اپنالی، صرف سات صفات کو بلاتاویل مانا(باقی سب میں تاویل کی راہ پر چل نکلے) وہ صفات مندرجہ ذیل شعر میں مذکور ہیں : حی علیم قد یر والکلام لہ إرادۃ وکذلک السمع والبصر (یعنی صفتِ حیات،علم،قدرت،کلام،ارادہ،سمع اوربصر) ان صفات کے اثبات کی کیفیت میں بھی ان کے اور اھل السنۃ کے منہج میں اختلاف پایاجاتا ہے۔ ‘‘ شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مجموع الفتاویٰ (۶/۳۵۹) میں اشاعرہ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ اشعریہ سے مراد وہ فرقہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفاتِ خبریہ کی نفی کرتے ہیں،البتہ اشاعرہ میں  سے وہ لوگ جو ’’کتاب الدیانۃ‘‘جو کہ ابو الحسن الأشعری کی آخری عمر کی تالیف ہے اور جس کے مخالف یا مناقض ان کا کوئی مقالہ منظرِ عام پر نہیں آیا،کی بات کرتے ہیں،ان کا یقینی طورپر أھل السنۃ میں شمار ہوگا۔‘‘

  • فونٹ سائز:

    ب ب