کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 184

 ترجمہ:یہ ذکر (کتاب) ہم نے آپ کی طرف اتاراہے کہ لوگوں کی جانب جو نازل کیاگیا ہے، آپ اسے کھول کھول کر بیان کردیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نصوصِ صفات کے بارہ میں کبھی یہ نہیں فرمایاکہ ان کا معنیٔ ظاہر، ومتبادر إلی الذہن ،کفر وضلال پر مشتمل ہے،بلکہ اس سلسلہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حرف بھی منقول نہیںہے، اور یہ بات ناممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بوقتِ ضرورت خاموش رہیں اور وہ بھی عقیدہ کے بارہ میں؟؟ افسوس کہ متأخرین میں سے یہ جاہل لوگ رونما ہوئے جو گویازبانِ حال سے پکار رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو اپنی صفات بیان فرمائی ہیں ان کا ظاہری معنی،اللہ تعالیٰ کے لائق ہی نہیں،اور یہ نکتہ (نعوذباللہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی امت سے چھپایا،لہذا ہمارے لیئے ضروری ہے کہ ہم تاویلوں کے ذریعے ان نصوص کے معنیٔ ظاہر کو پھیر دیں۔یہ ساری باتیں کتاب وسنت سے بالکل منحرف ہوکر ان کی ذاتی خواہشات ومیلانات پرمبنی ہیں۔ اے اللہ تو پاک ہے،یہ بہتانِ عظیم ہے،ان کی یہ باتیں سب سے بڑی گمراہی ،اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے بڑا افتراء ہے۔ قارئین کرام! حق بات، جس میں تھوڑی سمجھ بوجھ رکھنے والا انسان بھی ذرہ برابر شک نہیں کرسکتا یہ ہے کہ کہ اللہ تعالیٰ کی ہروہ صفت جو اللہ تعالیٰ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمادی،وہ اپنے معنیٔ ظاہر ،متبادر إلی الذہن سے ثابت ہے،اور جس شخص کے دل میں ایمان کی رمق بھی پائی جاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی کسی صفت کے بارہ میں مخلوقات سے مشابہت کا عقیدہ نہیں رکھ سکتا ،بلکہ وہ

  • فونٹ سائز:

    ب ب