کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 186

لانے پر مستعد ہوتا،ایسا ایمان جو اللہ رب العز ت کے شایانِ شان ہے،جس کی اساس اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: [لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ۝۰ۚ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ۝۱۱ ] ترجمہ:اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ خوب سننے اور دیکھنے والاہے۔ (شیخ شنقیطی رحمہ اللہ کا کلام ختم ہوا) واضح ہوا کہ امام ابو الحسن الأشعری رحمہ اللہ اپنی عمر کے آخری حصہ میں اہل السنۃ، اھل الحدیث کا مذہب اختیار کرچکے تھے،جس کاملخص یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی جو جو صفات خود یا اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے بیان فرمائیں وہ تمام کی تمام اللہ رب العزت کیلئے بلاتحریف، بلاتعطیل، بلاتکییف، اور بلاتمثیل ثابت ہیں۔اور انسان کا وہی مذہب معتبر ہے جس کاوہ سب سے آخر میں بالحصر اقرار واثبات کرے،چنانچہ ابو الحسن الأشعری کی کتاب ’’الابانۃ‘‘ جو ان کی زندگی کی آخری کتاب شمار ہوتی ہے،میں اسی عقیدہ کی صراحت موجود ہے۔ لہذا اب اگر کوئی شخص ان کی تقلید کا مدعی یاطالب ہے تو اس پر واضح ہونا چاہیئے کہ انکی تقلید کی تکمیل انکے اس مذہب کی اتباع پر قائم ہے جسے انہوں نے اپنی زندگی میں سب سے آخر میں اپنایا اور بصراحت لکھا،اوروہ مذہب،مذہبِ اھل الحدیث ہے،یہی مذہب صحیح اور واجب الاتباع ہے اور اسی مذہب کو امام ابو الحسن الأشعری نے بالالتزام اختیارکرلیا۔(فرحمہ ﷲ رحمۃ واسعۃ)

  • فونٹ سائز:

    ب ب