کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 187

 اب تیسرے سوال کے جواب کی طرف آتے ہیں۔(سوال یہ تھا کہ اشاعرہ کیسے باطل ہوسکتے ہیں،حالانکہ ان میںبڑے بڑے علماء اور معروف دعاۃ موجود ہیں؟)اس کا جواب دو وجوہ سے ہے۔ ایک یہ کہ حق کو شخصیات کے ساتھ نہیں تولا اور پرکھاجاتا،بلکہ شخصیات کو حق کے میزان میں تولاجاتاہے۔معرفتِ حق کی یہی صحیح میزان ہے۔یہ بات درست ہے کہ شخصیتوں کے مقام ومرتبہ کا ان کے اقوال کے قبول کرنے میں ایک اثر ہے، جیسا کہ عادل راوی کی خبر کے قابلِ قبول ہونے اور فاسق کی خبر کے قابلِ توقف (یاقابلِ رد) ہونے کا قاعدہ موجود ہے،لیکن ہر حال میں اس کو معرفتِ حق کا میزان قرار دینا درست نہیں ہے۔ہر انسان ایک بشر ہے اور کوئی بشر علمِ کامل اور فہمِ کامل کا دعویٰ نہیں کرسکتا،اس کے فہم وعلم میں اگر بہت نہیںتو کچھ نہ کچھ کمی ضرور ہوگی۔ایک شخص بعض اوقات دین دار اور صاحبِ خلق ہوتا ہے،لیکن ساتھ ساتھ ناقص العلم اورضعیف الفہم بھی ہوتا ہے،لہذا اس ضعف اور نقص کے بقدر وہ علمِ صحیح سے خالی یامحروم ہوجاتا ہے۔یاکچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی نشوونما ایک معین مذہب پرہوتی ہے،وہ دوسرے مذاہب کو جان ہی نہیں پاتا، نتیجۃً یہی سمجھ بیٹھتا ہے کہ حق وثواب اس کے مذہب میں منحصر ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر ہم ان علماء ورجال کا جو اشاعرہ کے مذہب پر قائم تھے،ان علماء ورجال کے ساتھ مقارنہ ومقابلہ کریں جو اہل السنۃ سلف صالحین کے مذہب پر تھے،تو ہم پر یہ بات واضح اور آشکاراہوگی کہ مذہبِ سلف صالحین کے علماء،مذہبِ اشاعرہ کے علماء سے مقام میں کہیں بڑے، علم میں کہیں برتر،اورہدایت وطریقِ مستقیم کو اپنانے میں کہیں زیادہ مضبوط ومستحکم تھے۔ چنانچہ ائمہ اربعہ(امام ابوحنیفہ ،امام مالک،امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ ) جن کی

  • فونٹ سائز:

    ب ب