کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 189

یعنی:جس شخص نے (خواہ وہ کوئی بھی ہو)کوئی ایسا عمل کیا جسے ہماری تائید وموافقت حاصل نہیں تو وہ مردود ہے۔ پھر حسنِ ادب کا تقاضہ یہ ہے کوئی ایسا شخص جو خیر خواہانہ جذبات اورطلبِ حق میں صدق اوراخلاص کے ساتھ معروف ہو،اگر غلطی کرجائے تو اس کے خلاف فتویٰ یا بدکلامی کا محاظ کھولنے کے بجائے اسے معذور قرار دیاجائے(کہ غلطی تو ہر انسان سے ہوسکتی ہے اورمعصوم عن الخطأ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں) لیکن اگر کوئی بدنیتی مخالفتِ حق اورکبر وعنادمیںمشہورہوتو(احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کیلئے) اس کے ساتھ وہی معاملہ روارکھا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ ایک انتہائی اہم سوال اور اس کا جواب اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ تم صفاتِ باری تعالیٰ میں تاویلیں کرنے والوں کو کافر کہوگے یا فاسق؟ ہم جواباً عرض کریں گے:کسی کو کافر یا فاسق قرار دینے کا فیصلہ کرناہماری ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہے۔تکفیر یا تفسیق،احکامِ شرعیہ میں سے ہے جس کا مرجع کتاب وسنت ہے،لہذا اس میں انتہائی درجہ کا تثبت ضروری ہے۔کسی شخص کو اس وقت تک کافریافاسق نہ کہا جائے،جب تک اس کے کفر یافسق پر قرآن اور حدیث کی دلیل نہ ہو۔

  • فونٹ سائز:

    ب ب