کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 190

ہر وہ مسلمان جو ظاہرالعدالۃ ہو اس کے تعلق سے اصلِ شرعی یہی ہے کہ اس کا مسلمان اور  عادل ہونا قائم وبرقرار ہے،لہذا جب تک کسی شرعی دلیل سے ان میں سے کسی چیز کا زائل ہونا معلوم نہ ہوجائے اس وقت تک ہرگز ہرگز اس کی تکفیر یا تفسیق نہ کی جائے …تکفیر وتفسیق میں تساھل برتنے والا دوانتہائی خطرناک وعیدوں کا مستحق بن جاتا ہے: ایک یہ کہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان ہو،اورآپ اس پر کفر کا فتویٰ صادر کرکے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے کے مرتکب ہوجائیں،اس کے ساتھ ساتھ آپ کا فتویٰ شخصِ محکوم علیہ پر بھی بہتان وافتراء قرار پائیگا (جوکبائر میں سے ہے) دوسری خطرناک وعید یہ ہے کہ کفر یافسق کا جوحکم آپ نے اپنے بھائی پر لگایا ہے اگروہ اس سے بری اور محفوظ ہے تو وہ فتویٰ آپ پر لوٹ آئے گا۔ عن عبدﷲ بن عمررضی ﷲ عنھما ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال:[اذا کفر الرجل أخاہ فقد باء بھا احدھما]وفی روایۃ [ان کان کما قال والا رجعت إلیہ] ترجمہ:عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہماسے مروی ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اگر کسی شخص نے اپنے کسی بھائی کوکافر کہاتو دونوں میں سے ایک ضرور کافرہوجائے گا۔ایک روایت میںیوں بھی وارد ہے:اگر تو وہ اس کے کہنے کے مطابق کافر ہے،تو درست ورنہ وہ کفر کا حکم اس (کہنے والے) پر لوٹ آئے گا۔ عن ابی ذر رضی ﷲ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم :[ومن دعارجلا بالکفر أوقال :عدو ﷲولیس کذلک الا حار علیہ ]

  • فونٹ سائز:

    ب ب