کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 192

 نیز فرمایا: [وَمَا كَانَ اللہُ لِيُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ ہَدٰىھُمْ حَتّٰي يُبَيِّنَ لَھُمْ مَّا يَتَّقُوْنَ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ۝۱۱۵ اِنَّ اللہَ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ يُـحْيٖ وَيُمِيْتُ۝۰ۭ وَمَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ مِنْ وَّلِيٍّ وَّلَا نَصِيْرٍ۝۱۱۶] ترجمہ:اوراللہ ایسانہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت کرکے بعد میں گمراہ کردے جب تک کہ ان چیزوں کو صاف صاف نہ بتلادے جن سے وہ بچیں بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو خوب جانتاہے۔ بلاشبہ اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین میں۔ وہی زندہ کرتا اورمارتا ہے،اورتمہارا اللہ کے سوا نہ کوئی دوست ہے اورنہ کوئی مددگارہے۔ اس لیئے اہلِ علم کا کہنا ہے کہ فرائض کا انکار کرنے والا اگر نیا نیا اسلام میں داخل ہوا ہے تو اسے اس وقت تک کافر نہیںکہا جاسکتا جب تک اسے ان فرائض سے آگاہ کرکے اس پر حجت قائم نہ کردی جائے۔ کسی پر کفر یافسق کا حکم لگانے سے مانع یارکاوٹ یہ ہے کہ کفر یافسق (کا قول یافعل) اس سے بلاقصد وارادہ ظاہر ہواہو،جس کی بہت سی صورتیں ہیں۔: ٭ ایک یہ کہ اسے کفریافسق (کے قول یافعل )پر مجبور کردیاجائے،چنانچہ وہ برضاورغبت اور اطمنانِ قلب کے ساتھ نہیں،بلکہ مجبوری کے عالم میں اس کا مرتکب ہورہاہے تو ایسی صورت میں اسے کافر یافاسق نہیں کہاجاسکتا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

  • فونٹ سائز:

    ب ب