کتاب: توحید اسماء و صفات - صفحہ 193

 [مَنْ كَفَرَ بِاللہِ مِنْۢ بَعْدِ اِيْمَانِہٖٓ اِلَّا مَنْ اُكْرِہَ وَقَلْبُہٗ مُطْمَىِٕنٌّۢ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْہِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللہِ۝۰ۚ وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝۱۰۶ ] ترجمہ:جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے بجز اس کے جس پر جبر کیاجائے اور اس کا دل ایمان پربرقرار ہو،مگر جو کوئی کھلے دل سے کفر کرے تو ان پر اللہ کاغضب ہے اور انہی کیلئے بہت بڑا عذاب ہے۔ ٭ دوسری صورت یہ ہے کہ اس پر ایسی اغلاق کی حالت طاری ہوجائے کہ اسے اپنی بات کا احساس وادراک نہیں ہورہا،بندہ اس کیفیت سے اس وقت دوچار ہوتاہے جب وہ شدتِ فرح یاشدتِ غم یاشدتِ خوف وغیرہ کی کیفیت سے دوچارہو۔اس کی دلیل صحیح مسلم میں انس بن مالک رضی اللہ عنہسے مروی حدیث ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : [للہ أشد فرحا بتوبۃ عبدہ حین یتوب إلیہ من احدکم کان علی راحلتہ بارض فلاۃ فانفلتت منہ وعلیھا طعامہ فأیس منھافاتی شجرۃ فاضطجع فی ظلھا قد أیس من راحلتہ فبینما ھو کذلک اذ ھو قائمۃ عندہ فأخذ بخطامھا ثم قال من شدۃ الفرح: اللھم انت عبدی وأنا ربک، اخطأ من شدت الفرح ] ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کے توبہ کرنے کی خوشی اس بندے سے بھی زیادہ ہوتی ہے جو اپنی اونٹنی پر سوار کسی بے آب وگیاہ میدان میں محوِ سفرہو کہ اچانک اس کی اونٹنی کھوجائے،اب

  • فونٹ سائز:

    ب ب